6

Visit to Nakhoda Mosque  kolkata

Visit to Nakhoda Mosque  kolkata

Visit to Nakhoda Mosque and meeting with the Imam and Khatib of the mosque, Mr. Shafiq Qasmi

The largest and most important mosque in Kolkata is located in the center of Kolkata, Zakaria Street. A very appropriate meeting and meeting was held with Mr. Qari Muhammad Shafiq Qasmi, the Imam of the mosque. He is an important social and religious figure in Kolkata.

The meeting was attended by important and prominent figures in the city, such as Mr. Fakhruddin Malik, the head of handicrafts.

6

Jamia Ashrafiyeh Mubarakpur  

Jamia Ashrafiyeh Mubarakpur

The Ashrafiyeh University is world-renowned. This Islamic Sciences University was rebuilt and revived by the Hafiz-ul-Millat Allama Shah Abdul-Uzair Muhaddith Moradabadi. However, the Ashrafiyeh Society was established in 1898 during the British rule under the name Misbah-ul-Ulum.

The name was changed to Ashrafiyeh because of the name of Syed Ali Hossein Ashraf Kachechovi.

The visit of this great scientific center by the head of the Council of Religions in India, Hajj Agha Syed Sadiq Hosseini, is an important task, and the meeting with great scientific and prominent figures is an important step towards creating unity and harmony between Islamic sects.

Untitled-1

خواجہ نصیر الدین محمود حسنی دہلوی کی بارگاہ میں حاضری

 خواجہ نصیر الدین محمود حسنی دہلوی کی بارگاہ میں حاضری

(ولادت 675 ہجری ۔وفات757 ہجری قمری)

 آپ حضرت نظام الدین اولیاء کے برجستہ اور معروف خلفاء میں سے تھے ۔

خواجہ نصیر الدین محمود حسنی دہلوی کی بارگاہ میں حاضری  دی کہ جوحضرت نظام الدین اولیاء کے برجستہ اور معروف خلفاء میں سے تھے ۔  اور آپ کا تعلق صوبہ اودھ ( اترپردیش) سے تھا اور آپ کا سلسلہ نسب تقوی سادات تک پہنچتا ہے ۔

موصوف حضرت نظام الدین اولیاء کے مشہور خلیفہ اور جانشین کے طور پر مشعروف ہیں ، آپ نے برصغیر ہند میں سلسلہ چشتیہ کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور آپ کے مشہور و معروف خلیفہ اور شاگرد سید محمد حسینی گیسودراز ہیں کہ جنہوں نے جنوب ہند میں سلسلہ چشتیہ کو رائج و عام کیا ۔

آپ کا مزار دہلی میں شاہ چراغ کے نام سے مشہور و معروف ہے جہاں عقیدت  مند حاضری دیتے رہتے ہیں۔

17

Visit and meeting with officials of Jamaat-e-Islami India in Delhi

Visit and meeting with officials of Jamaat-e-Islami India in Delhi

Jamaat-e-Islami is one of the first and most influential Islamic

institutions in the subcontinent, which was founded in Lahore in 1941 by Syed Abul Ala Maududi, who died in 1979, in collaboration with Muhammad Siddique, Maulana Manzoor Ahmad Nomani, Maulana Syed Muhammad Jafar Pahlwari, Maulana Nazir-ul-Haq Mirtohi, and Mian Tufail Muhammad

Meeting with Maulana Syed Jalaluddin Umari, Ameer of Jamaat-e-Islami Vice President Nusrat Ali, Secretary General of Jamaat-e-Islami Mr. Muhammad Salim Engineer, In-charge of Communication…. Muhammad Ahmed, In-charge of Welfare Affairs Department Salimullah, In-charge of Medical Services Department Mr. Arif Hussain

Meeting with Mr. Syed Saadatullah Hussaini, the current Ameer of Jamaat-e-Islami, who was elected after the death of Maulana Jalaluddin Umari

16

Visit to the shrine of Mir Qurban Ali

Visit to the shrine of Mir Qurban Ali and meet with

Mr. Syed Habib ur Rehman Niazi,

The guardian of the shrine Dr. Syed Habib ur Rehman Niazi, the guardian of the shrine of Mir Qurban Ali, is a prominent cultural and scientific figure.

For nearly 300 years, this Sadat Naqvi family in Jaipur has made great efforts in organizing the mourning of Sayyid al-Shuhada.

The late Syed Mahbub ur Rehman Niazi, the father of Mr. Habib ur Rehman, has written many works on the teachings of Ahlul Bayt (AS). One of the most famous works in the subcontinent in Urdu is known as ‘Raz Karbala’. Every year, grand ceremonies are held at the shrine of Mir Qurban Ali in commemoration of Ahlul Bayt (AS) in which hundreds of people are present.

145

Aman and Insaf Conference Jaipur 2022

Meeting with Hafiz Manzoor Ali Khan, President of the Jamiat Ulema Jaipur and participating in and speaking at the conference

A magnificent gathering of Muslims from the state of Rajasthan, nearly one million people, in Karbala, Jaipur City Square, called by Maulana Sajjad Nomani, son of Manzoor Nomani, entitled (Aman and Insaf Conference) for the protection of Islamic sanctities, the Holy Shrine of the Holy Prophet of Allah and the Nawamis of the Prophethood, was held on Sunday, June 12, 2022, from 6:00 PM to 10:30 PM

The conference was chaired by Maulana Sajjad Nomani, and Maulana Tauqir Raza Khan Bareilly, His Eminence Naveera Fazel Bareilly, was the special speaker of the gathering.

Important and influential personalities from India were also present at the conference including

  1. Ratan Ambedkar (New Bhim Rao Ambedkar)
  2. Mufti Muhammad Zakir Nomani Deobandi Mufti and City Judge of Jaipur
  3. Maulana Usman Shahi Imam and Khatib of Ludhiana, Punjab
  4. Kumar Kale, President of the Wamsif Party (Minorities)
  5. Anis Ahmed, General Secretary of the All India Popular Front
  6. Raje Ram Mil, State President of the Farmers and Tribals Movement
  7. Syed Sadiq Hussaini, Head of Taqreeb e Mazahib Council of India
  8. Maulana Asghar Ali Imam Mahdi, Ameer of the Jamiat Ahl-e-Hadith
12

اتحاد و وحدت ملت پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ کے اقوال کی روشنی میں

اتحاد و وحدت ملت

پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ کے اقوال کی روشنی میں

تحریر: حجہ الاسلام مولانا جناب سید محمد مجتبیٰ علی رضوی صاحب، دہلی

تمہید

اتحاد ایک ایسی نعمت ہے جو قوموں کو آباد کر تی ہے دنیا میں امن و سکون اسی اتحاد ملت کا مرہون منت ہے اور اختلافات تمام برائیوں کی جڑ ہے بڑی سے بڑی حکومت اور بڑے سے بڑا معاشرہ بھی جب اختلافات کا شکار ہو جا تا ہے تو زوال پذیر ہو جا تا ہے۔ اکثر قوموں کی بربادی کسی نہ کسی بے بنیاد اختلافات کی وجہ سے ہی وجود میں آئی ہے ۔تمام آسمانی ادیان و مکاتب نے بھی اتحاد کا ہی درس دیا ہے اس کے علاوہ وہ مکاتب فکر بھی جو اگر چہ ادیان آسمانی نہیں بھی تھے لیکن انسانیت بھائی چارہ اور اتحاد کا درس دیتے نظر آ تے ہیں ۔

 اختلاف اور خلفشار سوائے متعصب، موقع پرست اور خود غرض افراد کے علاوہ کو ئی ایجاد نہیں کر تا ہے، کیونکہ اگر ہم کسی دین و مذہب کی تعلیمات عام کریں  اور کسی مکتب فکر کی اچھائیاں بتائیں تو کسی کو اس پر کوئی بھی اعتراض نہیں ہو گا سوائے ان لوگوں کے جو اپنی ہٹ دھرمی اور خود غرضی کی وجہ سے اس کی مخالفت کریں۔ ابتدائے اسلام میں بھی ہم یہی دیکھ تے ہیں کہ جب حضور اکرم (ص)نے اسلام کا اعلان کیا توابو جہل و ابو لہب جیسے خود غرض لوگوں اور امیہ جیسے متعصب  افراد نے اپنے ہم نواؤں کے ساتھ مل کر اسلام کی مخالفت کی جب کہ عام افراد نے مخالفت نہیں کی بلکہ اکثر ان ہی لوگوں کے شکار ہو نے والوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت حاصل کی۔ اوریہ بتا دیا کہ سوائے معتصبی لوگوں کے اچھے پیغامات کی کوئی مخالفت نہیں کر تا ہے ۔ خدا وند عالم نے قرآن کریم میں بھی ایسے لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے کہ لوگ ایسے بھی ہیں کہ لاکھ دلیلیں دے دی جائیں لیکن اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر باقی رہتے ہو ئے واضح اور روشن دلیلوں کے آجا نے کے بعد بھی اختلافات کرتے ہیں اور اس کا انجام بہت سخت عذاب کی صورت میں ان کا منتظر ہے چنانچہ ارشاد ہو رہا ہے ( وَلاَتَکُونُوا کَالَّذِینَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَائَہُمْ الْبَیِّنَاتُ وَُوْلَئِکَ لَہُمْ عَذَاب عَظِیم )١ اور خبر دار ان لوگوں کی طرح نہ ہوجا ئو جنہوں نے تفرقہ پیدا کیا اور واضح نشانیوں کے آجا نے کے بعد بھی اختلاف کیا کہ ان کے لئے بہت سخت عذاب ہے ۔

انسانوں کے پاس اختلاف کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے خصوصا  مسلمانوں کے لئے قرآن مجید کے ہو تے ہو ئے اختلاف کرنے کا کوئی معمولی سا بھی بہانا نہیں ہے سوائے تعصب، جہالت اور خود غرضی کے۔یہاں ہم رسول کریم کے بیانات کی روشنی میں اتحاد کی ضرورت اور اس کے فائدہ کو پیش کر رہے ہیں اور اختلافات اور خلفشار کے نقصانات کو بھی حدیث کی روشنی میں بیان کر رہے ہیں۔

٭فرمان وحدت

اسلام کا ایک نظام ہے جو پوری دنیا کے لئے ہے ظاہر سی بات ہے جو دین اتنا بڑا نظام لے کر آئے گا تو رہبر بھی تو وہی معین کرے گا ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ نظام عالمی ہو اور رہبر عام سا سادہ سا انسان ہو، جب دین عالمی ہے رہبر بھی عالمی بصیرت رکھنے والا ہو گا عالم کائنات ہو گا۔ پیغمبر اکرم فرما تے ہیں ولی امر کی اطاعت کرو جو اسلام کے عالمی نظام کا رہبر ہے سرکار ختمی مرتبت نے اس طرح فرمایا ہے:”اسمعوا و اطیعوا لمن والاہ اللہ الامر فانہ نظام الاسلام ”٢  الٰہی حاکموں کی اطاعت کرو ان کے فرمانبردار رہو کیونکہ الٰہی رہبروں کی پیروی کا ثمرہ امت مسلمہ کا اتحاد ہے۔

اگر تمام مسلمان اور کلمہ پڑھنے والے الٰہی نمائندوں کی پیروی کرکے اس الٰہی نظام کو قبول کر لیتے جو حضرت پیغمبر اکرم (ص) نے رائج فرمایا تھا، جس کی بنیاد مکہ میں پڑی اور جو مدینہ کی گلیوں میں پروان چڑھا تو پورے دنیائے اسلام میں کسی بھی قسم کا کوئی اختلاف نہ ہو تا اس لئے کہ اسلامی نظام میں کہیں بھی کسی بھی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ صرف ماننے والوں نے پیغمبر اکرم (ص) کے بجا ئے اپنی باتوں کو اہمیت دی جس کے نتیجہ میں اختلاف وجود میں آیا جو مختلف حکومتوں کا شکار ہو کر مزید بڑھتا ہی گیا۔

٭وحدت کا محور

ہر چیز کا ایک محور اور مرکز ہو تا ہے اسی طرح اتحاد کا بھی ایک محور ہے اور محور کو بہت مضبوط ہو نا چا ہیئے بلکہ جو جس چیز کا محور ہے اسے اس کی مناسبت سے ہو نا چاہیئے اسی طرح اسلام کا بھی ایک محور ہے تو یہاں بھی وہی قاعدہ لاگو ہو گا کہ چونکہ اسلام عالمی ہے ابدی ہے تو اب اس کا محور بھی وہی بنے جو افاقی حیثیت کا حامل ہو اور قیامت تک اثر و رسوخ رکھتا ہو تو اس کے پیش نظر سوائے اہل بیت کے کسی میں بھی اتنی صلاحیت نہیں کہ جو اسلام کا محور بن سکے۔ چنانچہ اسی بات کو سرکار ختمی مرتبت نے اس طرح بیان فرمایا ہے:”فانتم (اہل البیت) اہل اللہ عزوجل الذین بھم تمت النعمة و اجتمعت الفرقة و ائتلفت الکلمة” ٣  اہل بیت اہل اللہ ہیں یعنی اللہ والے ہیں آپ ہی کی برکت کی وجہ سے نعمتیں مکمل ہو گئیں اور پراکندگی بر طرف ہو ئی اور وحدت کلمہ وجود میں آئی۔وحدت اور اتحاد کا محور صرف اور صرف رسول(ص) اور آل رسول ہیں ان کے بغیر اسلام اور اسلامی معاشرہ میں وحدت کی فضا قائم نہیں ہو سکتی اگر امت مسلمہ کو ایک ہونا ہے اور اپنی کھوئی ہو ئی عزت واپس حاصل کرنا ہو تا اہل بیت  کی مرکز یت میں اتحاد کرنا ہی ہو گا۔

٭وحدت کے عوامل

تمام انسان ایک ہی ہیں ایک ماں باپ کی اولاد ہیں لہٰذا ان کے خون بھی ایک ہیں اور دشمنوں کے مقابلہ میں سب برابر اور ایک ہیں ان میں سے کسی کو بھی نقصان ہوا تو وہ نقصان سب کا ہے پورے سماج کا نقصان ہے۔ ان میں کسی قسم کا کوئی فرق اور امتیاز نہیں ہے اسی بات کو پیغمبر رحمت (ص)نے یوں فرمایا ہے ” المومنون اخوة تتکافئو دماء وھم و ھم ید علی من سواهم” ٤  مومنین آپس میں بھائی ہیں ان کے خون برابر ہیں، اور دشمنوں کے مقابلہ میں سب متحد اور ایک ہیں ۔اس حدیث میں یہ واضح ہو گیا کہ اسلام نے فرقوں کے امتیازات کے ساتھ ساتھ تمام رنگی اور نسلی ،علاقائی اور طبقاتی، سماجی اور معاشرتی تمام طرح کے فرق کو بھی ختم کردیاہے اور سب کو ایک اللہ پر ایمان کی صف میں لا کر کھڑا کردیا ہے اور سب کو ایک دوسرے کا بھائی بنا کر یکسانیت عطا کی ہے۔

٭اسلامی برادری

خدا وندعالم نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک ایسے رشتہ میں باندھ دیاہے کہ جس میں سب برابر ہیں اور انسانیت کا یہی ایک ایسا رشتہ ہے جہاں برابری پا ئی جاتی ہے اور وہ ہے بھائی کا لہٰذا قرآن کریم نے بھی یہی کہا ہے کہ مومنین آپ میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور اسی بات کو پیغمبر اکرم (ص) بھی فرما رہے ہیں کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں یعنی ایک تو یہ کہ سب ایک ہیں دوسرے یہ کہ کسی کو بھی کسی پر کسی بھی قسم کی کوئی برتری حاصل نہیں ہے سوائے تقویٰ الٰہی کے یعنی اب تقویٰ کی منزلوں میں جو آگے بڑھے گا وہی اس کے لئے دوسروں سے برتری دلا ئے گا اور اس کے امتیازات اور درجوں کو بڑھا ئے گا لہٰذا نبی کریم (ص) فرما تے ہیں :”المسلمون اخوة لا فضل لاحد علی احد الابالتقوی” ٥  تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں اور صرف تقویٰ کے علاوہ کوئی بھی ایک دوسرے پر کسی بھی قسم کی برتری نہیں رکھتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ سوائے تقویٰ الٰہی کے کسی کو بھی کسی پرکو ئی امتیاز نہیں رکھتا ہے۔

 ٭ایک دوسرے کا تعاون

اب جب سارے مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں تو اب سب کا فریضہ ہے کہ ایک دوسرے کی جہاں تک ممکن ہو مدد کریں ایک دوسرے مومن کا سہارا بنیں اور اس طرح ایک مومن دوسرے مومن کی حمایت اور مدد کے لئے کھڑا ہو جا ئے جیسے سیسہ پلائی ہو ئی دیوار ہو چنانچہ رسالت مآب فرما تے ہیں : ” المومن للمومن کالبنیان المرصوص یشد بعضہ بعضاً” ٦  مومن مومن کے لئے سیسا پلائی ہو ئی دیوار کی طرح ہے جس کے اجزاء ایک دوسرے کو مدد کرتے رہتے ہیں۔تمام مومنین ایک دوسرے کے بھائی ہیںایک جسم کی مانند ہیں ایک دوسرے سے گہرا تعلق اور عمیق رشتہ رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی طاقت اور تقویت کا سبب بنتے ہیں ،اسی طرح ایک اور حدیث میں مومن کو جسد واحد قرار دیا گیا ہے ، کہ مومن ایک جسم کی طرح ہیں کہ جس طرح جسم کا ہر حصہ دوسرے حصوں کا ساتھی اور ایک دوسرے سے متعلق ہو تا ہے اسی طرح مومن مومن کا ساتھی اور اس کا مددگار اس کی طاقت ہو تا ہے۔

٭الفت و دوستی

جس سب ایک دوسرے کے ساتھی اور مدد گار ہیں تو پھر ایک دوسرے میں الفت و محبت بانٹیں اور ایک دوسرے سے تعلق بحال رلکھیں۔ محبت کریں تا کہ معاشرہ ترقی کی راہ میں گامزن رہے چنانچہ حضور اقدس(ص) فرما تے ہیں:”خیرالمومن من کان مالفة للمومنین ولاخیرفیمن لا یالف ولا یولف” ٧ بہترین مومنین وہ ہیں کہ جو دوسرے مومنین کے لئے محبت کا محور بنیں جو دوسرے سے مانوس نہ ہوں اور جو افراد ایک دوسرے کے لئے انسیت الفت کا محور نہ بنیں تو ایسے لوگوں میں کو ئی خیر نہیں ہے ۔مومنین ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے انسیت رکہتے ہیں اور ان میں یہ آپسی تعلق اللہ پر ایمان ی وجہ سے ہی ممکن ہو تا ہے چونکہ سب کی منزل ایک ہو تی ہے اور مقصود بھی ایک ہو تا ہے تو پھر ایسی صور ت میں اختلاف کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی ہے اس لئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خوش ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے قلبی سکون کا با عث بنتے ہیں۔

٭وحدت میں اللہ کی مدد شامل حال

جب سماج اور معاشرہ میں اتحاد ہو گا اور سب ایک ہوں گے کسی بھی قسم کا آپسی اختلاف نہ ہو گا اور پوری مسلم امت ایک ہو گی تو پھر ایسی جماعت پر اللہ کی رحمتیں نازل ہو ں گی اورپھروہ قوم تائید خداوندی سے سر شار ہو گی چنانچہ ارشاد نبوی (ص) ہے کہ :”ید اللہ علی الجماعة” ٨  جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت کے سر پر اللہ کا ہاتھ ہے خداکی تائید عوام کے ساتھ ہے اتحاد میں ہے جہاں افتراق و اختلاف ہو گا وہاں لوگ الگ الگ ٹکڑوں میں بٹے ہوں گے نتیجہ میں تائید الٰہی کسی کے بھی شامل حال نہ ہو گی لیکن جہاں اتحاد ہو گا اور لوگ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے سب مل کر ایک معاشرہ اور ایک دینی سماج بنا ئیں گے الٰہی نظام رائج کریں گے دین دار ہوں گے اسی معاشرہ کو رب کریم بھی اپنی رحمتوں سے نوازے گا اور اہل بیت کی معیت بھی نصیب ہو گی جہاں ایسا ہو گا وہاں برکتیں بھی ہوں گی اور ترقی کے سارے امکان بھی وجود میں آ ئیں گے۔

٭اختلاف عذاب الٰہی

 جہاں اتحاد پر اتنا زور دیا گیا ہے اور آیات قرآنی اور سرکار ختمی مرتبت کی احادیث موجود ہیں کہ جو مسلمانوں کے آپسی اتحاسد پر اتنا زور دے رہی ہیں تو ایسان ہیں کے کہ اختلافات کے نقصانات اور مضرات سے آگاہ نہ کیا گیا ہو بلکہ جہاں اتحاد اور یکجہتی پر زور ہے وہیں عدم اتحاد او ر اختلافات کے خوفناک نتائج اور نقصانات سے بھی مکمل طور پر آگاہ کیا گیا ہے ۔چنانچہ آپ(ص) فرما رہے ہیں:”الجماعة رحمة و الفرقة عذاب”٩   وحدت رحمت کا سبب ہے اور اختلاف و افتراق عذاب کا موجب ہے ۔ جہاں وحدت ہو تی ہے معاشرہ میں ایکتا ہو تی ہے وہاں رحمت خدا بھی شامل حال ہو تی ہے، اسی طرح جہاں اختلاف ہوگا وہاں معاشرہ عاب کا مستحق ہو گا اور رحمتیں دور ہو جا ئی ں گی۔

٭اختلاف ہلاکت کا باعث

بہت سے لوگ اس بات سے غفلت برتتے ہیں کہ عذاب اور سزا تو دوسری دنیا یعنی آخرت کی ہے تو دنیا میں جو چا ہیں کر لیں یہاں کون سا نقصان ہو رہا ہے نہیں جناب یہاں بھی اس کے نقصانات موجود ہیں خود رسالت مآب فرما رہے ہیں کہ گذشتہ قوموں کی بربادی کا ایک بڑا سبب ان کا آپسی اختلاف تھا ، ظاہر سی بات ہے کہ آپسی اختلاف سے بڑی سے بڑی قوم متاثر ہو سکتی ہے اور ان کی طاقت ختم ہو سکتی ہے اور فتنہ پرور افراد کو اسی درمیان موقع مل جاتا ہے کہ جو قوموں کی حکومتوں کی  بربادی اور ہلاکت کا سبب بن جا تی ہے لہٰذا نبی رحمت  (ص)فرما رہے ہیں:”لاتختلفوافان من کان قبلکم اختلفوافھلکوا” ١٠ آپس میں اختلاف پیدا نہ کروکیونکہ تم سے پہلے والی جن قوموں نے بھی اختلاف کیا وہ اپنے اختلاف کی وجہ سے برباد ہو گئیں اور ہلاکت ان کا مقدر بن گئی ۔ گذشتہ اقوام میں بہت سی قومیں آپسی اختلافات کی وجہ سے نابود ہو گئیں ہیں اور کسی بھی قوم کی بربادی کے لئے آپسی اختلافات جتنا کار گر حربہ ہو سکتے ہیں اتنا کوئی ہتھیار بھی نہیں کام آتا ہم اپنے ملک عزیز میں بھی اس کی بہت سی مثالیں محسوس کر سکتے ہیں۔ آپسی اختلافات کی وجہ سے ہی بڑی سے بڑی حکومتیں تک ہل گئی ہیں اور قومیں برباد ہو گئی ہیں۔

٭اختلاف،اسلام سے باہر نکلنے کی وجہ

جس سماج میں تفرقہ اور اختلافات موجود رہیں گے اور لوگ ایک دوسرے سے الگ ہو تے رہیں گے تو ایسے افراد دائرہ اسلام سے باہر ہو تے رہیں گے یعنی اسلامی معاشرہ کے خلاف ہے کہ لوگ مسلم معاشرہ سے کٹتے رہیں اسی سلسلہ میں سرکار رسالت مآب فرما تے ہیں:”من فارق الجماعة شبرا خلع اللہ ربقة الاسلام من عنقہ” ١١  جو شخص ایک بالشت بھر بھی بلاوجہ اسلامی معاشرہ سے دور ہو جا ئے گاتو خداوند عالم اسے دائر ہ اسلام سے باہر کر دیتا ہے۔بے بنیاد اختلافات کی وجہ مسلم معاشرہ سے کنارہ کش ہو نا سماج اور معاشرہ کی بربادی کا پیش خیمہ ہے اسی طرح لوگ لڑتے رہے اور الگ ہو تے رہے تو معاشرہ ختم ہو جا ئے گا لہٰذا معاشرہ سے کٹ کر رہنا مناسب نہیں ہے ، ایکتا میں طاقت ہے اتحاد میں قوت اور معاشرہ کی ترقی مضمر ہے ۔

٭قومیت پر کسی کی برتری نہیں

کسی علاقہ یا قوم سے ہونا یہ کسی کے لئے برتری یا امتیاز نہیں ہے ،اسلام نے کسی بھی طرح کے انسانوں کے بنائے ہوئے امتیازات اوت تفریق کو قبول نہیں کیا ہے اور نہ ہی عربی عجمی کا کوئی فرق ہے بلکہ انسان ہو نے میں سب برابر ہیں عربی ہونا بھی کو ئی امتیاز نہیں ہے بلکہ یہ صرف زبانی اور لسانی فرق ہے چنانچہ حضور(ص)  فرما تے ہیں :”یا ایھا الناس! ان الرب واحد والاب واحدو ان الدین واحد لیست العربیة لاحدکم باب و لا ام و انما ھی اللسان فمن تعلم العربیة فھو عربی” ١٢  اے لوگو! ہمارا رب ایک ہے (اللہ) سب کے باپ ایک ہیں ( آدم ) سب کا دین ایک ہے ( اسلام ) عربی ہو نا کسی کے ماں باپ نہیں ہیں(قومیت نہیں ہیں) بلکہ عربی ایک زبان ہے اور جو اس زبان کو سیکھ کر بولنے لگے گا عربی ہو جا ئے گا ۔ عام طور سے لوگوں میں لڑنے اور جھگڑنے کی کو ئی بنیادی وجہ نہیں ہے جب کہ اتحاد اور یکجہتی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ سب کا رب ایک ہے، ماں باپ (آدم و حوائ) ایک ہیں سب ان ہی کی اولاد ہیں، عربی ہو نا بھی کسی کی قوم نہیں ہے یعنی عرب و عجم کا بھی کوئی فرق نہیں ہے بلکہ عربی صرف ایک زبان ہے اور جو بھی اس زبان کو سیکھ کر بولنے لگے گا وہ عربی ہو گا،  تو نہ ہی کسی کو علاقائی فوقیت حاصل ہے اور نہ ہی قومی فوقیت حاصل ہے بلکہ اس معاملہ میں سب برابر ہیں۔

٭من مانی کا خطرہ

جو لوگ سر کشی کرتے ہیں اپنے رہبر کے مخالف ہو کرتے ہیں اپنے سرداروں کو نہیں ما نتے ہیں یا جو اپنی حدود کا پاس نہیں رکھتے ہیں ایسے لوگ معاشرہ کے لئے بھی نقصان دہ ہیں اور دوسرے افراد کے لئے بھی نقصان دہ ہیں چنانچہ پیغمبر اکرم (ص)فرما تے ہیں :”ثلاثة لا تسال عنھم:رجل فارق الجماعة و عصی امامہ و مات عاصیا، وامة اوعبد آبق من سیدہ فمات، و امراة غاب عنھا زوجھا و قدکفاھاموونة الدنیا فتبرجت بعدہ فلا تسال عنھم” ١٣  تین طرح کے لوگوں سے کبھی بھی مشورہ مت کرنا:١۔ ایسے شخص سے جو معاشرہ سے بے بنیاد اختلاف کی وجہ سے دور ہو ، اپنے اما م کا باغی ہو اور اسی عالم میں مرجا ئے ۔ ٢۔ ایسی کنیز اور غلام سے کہ جو اپنے مالک کا باغی ہو اور اسی عالم میں مرجا ئے۔٣۔ ایسی خاتون سے کہ جس کا شوہر اس سے دور ہو اور وہ اپنی زوجہ کو مخارج(کام کی وجہ سے دور ہو اور اس کا نان و نفقہ برابر) بھیجتا ہو او ر وہ شوہر کی غیر موجود گی میں آرائش اور غیروں میں خود نمائی کرے۔ انسان کو کبھی کبھی ایسے مسائل اور معاملات در پیش آ تے ہیں کہ جب اسے دوسروں سے مشورہ کرنا پڑتا ہے با تیں کرنا پڑتی ہیں اس کے لئے پیغمبر اکرم (ص) فرما تے ہیں کہ اپنے کو بڑا سمجھدار نہ سمجھو بلکہ مشورہ کرلو اور مشورہ کے وقت بھی اس بات کا خیال رہے کہ کس سے بات ر رہے ہو اور اپنے مسائل کس کے سامنے پیش کر رہے ہو اگر ایسے شخص سے گفتگو کرو گے کہ جو معارہ سے کٹا ہوا ہے اور اپنے رہبر کا باغی ہے تو ایسا شخص تمہیں بھی نقصان پہنچا ئے گا لہٰذا ایسے افراد سے دور رہو، اپنے آقا کے باغی کنیزوں اور غلاموں سے دور رہو اور ایسی عورتوں سے بھی دور ہی رہو کہ جو شادی شدہ ہو نے کے با وجود شوہر کی غیر موجود گی میں دوسروں کے لئے سجتی سنورتی ہوں ایسے لوگ نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ایسے لوگوں سے معاشرہ کو نقصان پہنچتا ہے ۔

٭جہالت کی موت

جو جماعت مسلمین سے بلا کسی معقول وجہ کے کٹ کے رہنے لگا اور بلا وجہ دور ہوا وہ اگر اسی عالم میں اس دنیا سے جا ئے تو گویا وہ زمانہ جاہلیت میں مرا ہے  چنانچہ ارشاد رسالت ہے کہ:”من فارق الجماعة مات میتة جاہلیة” ١٤  مسلم معاشرہ سے بلا وجہ کٹ کر رہے والا شخص اگر مر جا ئے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو تی ہے ۔ معاشرہ اور سماج سے بلا کسی صحیح وجہ سے کٹ کر رہنے والا شخص گویا ایسا ہے کہ جو اسلام سے دور ہے اور اسی دوری اور کنارہ کشی کے عالم میں اگر وہ مرجا ئے تو گویا وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔

معاشرہ اور سماج سے کٹنے والا شخص گویا ایسا ہے جو اسلام سے دورہے اور اسی دوری اور کنارہ کشی کے عالم میں اگر وہ مرجا ئے تو گویا وہ جاہلیت کی موت مرا ہے ، سماج سے کٹ کر اور بے تعلق ہو کر رہنے والے شخص کی کو ئی حیثیت ہی نہیں ہے اور ایسا شخص گویا اس طرح کا ہے جیسے کو ئی ظہور اسلام سے پہلے زمانہ ٔ جا ہلیت میں رہے رہا ہو اور اسی عالم میں اگر اس کی موت آجا ئے تو وہ موت زمانہ ٔ جا ہلیت کی موت ہے ۔

٭ اختلاف کے نتائج

اختلافات کا نتیجہ بربادی اور مغلوب ہو نا ہے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی اہل حق کے درمیان اختلافات کو ہوا ملی ہے وہاں اہل باطل کا تسلط ہو گیا ہے اور سارے اہل حق مغلوب ہو گئے ہیں آپسی اختلاف ہلاکت کا سبب ہے پیغمبر اکرم (ص)نے بھی گذشتہ امتوں کے انجام کی خبر دی ہے کہ اختلافات کے نتیجہ میں ان کا کیا انجام ہوا کہ حق پر ہو نے کے باوجود وہ شکست کھا گئے اور اہل باطل ان پر مسلط ہو گئے ۔چنانچہ حدیث نبوی ہے:”ما اختلف امة بعد نبیھا الا ظہر اہل باطلھاعلی اہل حقہا ”١٥  جس امت نے بھی اپنے نبی کے جا نے کے بعد اختلاف کیا ہے آپس میں لڑے ہیں تو ان پر باطل گروہ حاوی ہو گئے اور ان کو اپنا اسیر بنا لیا ہے۔

جب گذشتہ امتیں اپنے اپنے نبیوں کے بعد اختلافات کا شکار ہو گئیں تو یہی اختلاف ان امتوں کے زوال کا سبب بن گیا، اور ان کے اختلافات نے ان امتوں کو کمزور اور بے بس کردیا جس کی وجہ سے اہل باطل ان پر غالب آگئے اور ان پر مسلط ہو گئے۔

٭ دین کا خاتمہ

آپسی اختلافات کا نتیجہ صرف اتنا ہی نہیں ہو تا بلکہ اس سے ایمان بھی کمزور پڑ جاتا ہے کیوںکہ جب اختلافات کی وجہ سے حالات خراب ہو جا تے ہیں تو ایسی صورت میں دین بچانا بھی مشکل ہو جا تا ہے اور انسان ایسا ہو جا تا ہے کہ جیسے دین اس کے پاس  تھا ہی نہیں جس طرح سر سے بال مونڈھ جا تا ہے اختلافات کے نتیجہ میں اسی طرح سے دل سے ایمان کا خاتمہ ہو جا تا ہے لہٰذا نبی رحمت فرما تے ہیں: ”الا ان فی التباغض الحالقة لا اغنی حالقة الشعر”١٦  یہ بات جان لو کہ اختلافات اور دشمنیاں کاٹ چھاٹ دیتی ہیں جس طرح سے استرا سر کے بالوں کو تراش دیتا ہے ۔ اسی طرح دشمنی اور اختلاف دین کا تراش دیتی ہے اور سرے سے کاٹ دیتی ہے۔

اسلامی سماج میں اختلاف اور دشمنی کا سیدھا نقصان دین اور ایمان کو ہوتا ہے، جس طرح سے استرا سر سے بال مونڈھ دیتا ہے اسی طرح سے اختلافات اور دشمنی انسان سے دین کا مونڈھ دیتے ہیں جس سے دین ہم سے دور ہو جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے یہ اختلافات اور دشمنیاں سیدھے دین اور ایمان کو نقصان پہنچا تی ہیں۔

آخر کلام

 ان نورانی احادیث کی روشنی میں یہ بات پوری طرح واضح ہو جا تی ہے کہ اتحا قوم و ملت اور آپسی یکجہتی اور بھائی چارہ جتنا اہم اور مفید ہے اختلافات اتنے ہی برے اور نقصان دہ ہیں لہٰذا ہر کلمہ گو کا فرض ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی میں مگن رہنے کے بجائے اسلامی حقائق کو قبول کرے اور امت مسلمہ کے درمیان پا ئے جا نے والے بے جا اور بیکار کے اختلافات کو ختم کیا جا ئے،جو اسلام کے محسن ہیں اہل ہیں جن کی اسلام کے لئے خدمات ہیں ان کو ہی سر آنکھوں پر رکھا جا ئے لیکن جو بھی پوری اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کے لئے ننگ و عار کا سبب بنے ہیں چا ہے جو بھی رہا ہو جس زمانہ میں بھی رہا ہو اس کے تمام تر تقدس کو ختم کرکے سرکار ختمی مرتبت کے فرامین کی روشنی میں صرف  انہیں ہی محترم سمجھیں جن کا تعارف رسالتمآب نے اپنی حیات طیبہ میں کرایا ہے اور جن کی اولادوں کا ذکر خیر آپ نے احادیث میں بیان فرمایا ہے ان کے علاوہ تاریخ کے خود ساختہ تمام محترم نما ابن الوقت افراد سے کنارہ کشی کی جا ئے اور ایک اسلام کے ماننے والے ایک اللہ ،ایک قرآن، ایک قبلہ، ایک نبی کا عقیدہ رکھنے والے اسی پیارے نبی کی بات مان لیں اور نبی محترم نے جن کی محبت دل میں بسانے کو کہا ہے بس انہیں سے وابستہ ہو جا ئیںتمام تر اختلافات کا خاتمہ ہو جا ئے گا کیوںکہ اہل بیت علیہم السلام آل نبی ہیں، مرکز رحمت و نعمت ہیں محور اسلام ہیں اور خود رسول مقبول کی حدیث کے مطابق محور اتحاد صرف اہل بیت ہیں دنیا ان سے وابستہ ہو تو مسلمان پوری دنیا میں ایک ہو جا ئیں۔

بار الہا! ہم سے کو متحد ہو نے کی توفیق عطا فرما۔اہل بیت نبی سے وابستہ رہنے کی توفیق عنایت فرما ، و الحمد للہ رب العالمین۔

حوالے

١۔سورہ آل عمران، آیت ١٠٥

٢۔امالی شیخ مفید، ج١، ص ١٦، م٢، ح٢

٣۔الکافی، ج١،ص ٤٤٦

٤۔الکافی، ج١، ص ٤٠٤

٥۔کنز العمال، ج١ ،ص١٤٩، نہج الفصاحہ، ح ٣١١٢

 ٦۔صحیح مسلم، ج٤،ص١٩٩٩، نہج الفصاحہ،ح ٣١٠٣

٧۔بحار الانوار، ج٧١،ص ٣٩٣

٨۔ نہج الفصاحہ، ح٣٢١١

٩۔ نہج الفصاحہ، ح ١٣٢٣

١٠۔کنز العمال ، ح ٨٩٤

١١۔الکافی، ج١، ص ٤٠٤، نہج الفصاحہ، ح ٢٧٦٩

١٢۔معالم الحکومة، ص ٤٠٤

 ١٣۔نہج الفصاحہ، ص ١٢٢٤

١٤۔نہج الفصاحہ، ٢٨٥٥

١٥۔اکنز العمال، ح ٩٢٩

 ١٦۔الکافی ، ج ٢ ، ص ٣٤٦

11

اسلامی اتحاد قرآن و حدیث کی روشنی میں

اسلامی اتحاد قرآن و حدیث کی روشنی میں

تحریر :  سید محمد مجتبیٰ علی رضوی

تمہید

        پروردگارعالم نے تمام جانداروں کو مختلف صفات اور شناخت کے ساتھ خلق کیا ہے ۔ ہزاروں قسم کے جاندار ہیں اور سب کا رہن سہن ، طور طریقہ ،طبیعت اور مزاج الگ الگ اور مختلف ہے لیکن جو چیز اکثر ذی روح مخلوقات میں مشترک ہے وہ مل جل کر رہنا ہے ،کو ئی بھی جانور ہو اپنی صنف کے جانداروں کے سا تھ مل جل کر رہتا ہے ،اسی طرح مل جل کر رہنے کو اتحاد کہا جاتا ہے۔ تمام جانور اتحاداور با ہمی یکجہتی کا ثبوت دیتے ہیںاور یہ صفت ہمیں ان کی طبیعت میں ملتی ہے ،تویہ تھی جانوروں کی مثال،اور دوسری طرف اشرف مخلوقات ہو نے کا دعویدار انسان ہے جو مل جل کر رہنے کا اقرار بھی کرتا ہے ، فطرتاً سماجی زندگی گذار نے کا عادی بھی ہے اورسماج سے الگ رہ کر بھی زندگی نہیں گذار سکتا  لیکن اس کے با وجود اپنے مفاد اور اغراض کی چا ہت اور مال و متاع کی لا لچ میں وہ اپنے ضمیر کی اس آواز پر کان نہیں دھرتا جو اسے با ہمی یکجہتی اور اتحاد کی طرف دعوت دیتی ہے جس کے نتیجہ میں معاشرہ تبا ہی کی طرف بڑھنے لگتا ہے اور برا ئیا ں عام ہو جا تی ہیں ۔

        تمام آسمانی ادیان متحد ہو کر رہنے کی دعوت دیتے ہیں ،بالخصوص اسلام نے تو اتحاد اور با ہمی یکجہتی پر کا فی زور دیا ہے اور اختلافات کے نقصانات سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ ترقی اور کا میابی حاصل کر نے کے لئے اتحاد ایک اہم وسیلہ ہے ۔اس کا سب سے بڑا فا یدہ یہ ہے کہ معاشرے میں سکون اورامن اور صلح و کی فضا قا ئم ہو جاتی ہے ۔لیکن یہ مسلمان ہے جو امن و سکون کا اتنا اہم اور قیمتی سرما یہ رکھنے کے بعد بھی نہ صرف یہ کہ اس سے فا ئدہ نہیں اٹھا رہا ہے بلکہ فرقوں میں بٹاجا رہا ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:”اِتَّحِدَ الْمُسْلِمُونَ عَلَیٰ اَنْ لَا یَتَّحِدُوا” مسلمانوں نے اتحاد نہ کر نے پر اتحاد کررکھاہے ۔اسلام کو جتنا نقصان بیرونی دشمنوں سے ہوا ہے اس سے کہیں زیادہ نقصان با ہمی اختلافات اور دا خلی خانہ جنگی سے ہوا ہے ۔اور یہ سب اتحاد نہ ہونے کے سبب ہوا ہے۔ مولا ئے کا ئنات نے جب ظا ہری حکو مت کی باگ ڈور سنبھا لی تواس وقت آپ  کے سا منے سب سے بڑی مشکل لوگوں کا اختلاف تھی ۔آپ نے اس بات کا شکوہ بھی کیا ” ہمارے دشمن باطل پر ہو نے کے باوجود متحد ہیں لیکن تم لوگ حق پر ہو نے کے بعد بھی پرا کندہ ہو ”

         اسلام کی مسلسل تاکیدکے باوجود مسلمان فرقوں میں بٹتے چلے گئے جس سے اتحاد اسلامی کا شیرازہ بکھر گیا ۔گذشتہ قومیں بھی جب تک متحد رہیں بڑی شان و شوکت کے ساتھ اپنی زندگی گذارتی رہیں، لیکن جب آپسی خلفشار اور اختلافات کا شکار ہو ئیں تب ان کی سا ری شان و شوکت خاک میں مل گئی اور تاریخ کے صفحوں میں مدفون ہو کر ایک عبرت آموز سبق بن کر رہ گئیں۔ مسلمانوں کے سامنے اتنے سارے سبق تھے لیکن اس کے بعد بھی درس عبرت لینے کے بجا ئے خود اسی دلدل میں کود پڑے ۔اور اسلامی ہیبت کو برباد کردیا ۔ہم مسلمان تو متحد ہو نے کے زیادہ اہل ہیں اس لئے کہ نہ تو ہما رے دین میں تحریف ہوئی ہے اور نہ ہی شریعت محمدی منسوخ ہو ئی ہے بلکہ یہ دین تو قیا مت تک با قی رہنے وا لا ہے۔

اتحاد کے سلسلے میں ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ

        بہت سے لوگ اتحاد کی مخالفت کرتے ہیں ان میں سے کچھ تو اپنے مفادات کے تحت اس کی مخالفت کرتے ہیںاس طرح کی مخالفت میں اندرونی اور بیرونی دونوںہی دشمن شا مل ہیں ،دشمن اسلام کی ترقی سے خا ئف ہیں تو اندرونی عناصر اس بات سے خا ئف ہیں کہ مسلمان اگر متحد ہو گئے تو ان کا اقتدار  خطرے میں پڑجا ئے گا ، کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اتحاد کے معنی و مفہوم کو صحیح طریقہ سے سمجھا ہی نہیں ہے اور اس سلسلے میں وہ غلط فہمی کا شکار ہیں ،اس بنا پر وہ اتحاد کی مخالفت کر تے ہیں۔ان کی نظر میں اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب میں چلے جا ئیںاور اپنی شناخت مٹا دیں۔

         ایسے لوگ اتحاد کو دوسروں کے آگے جھکنا سمجھتے ہیںجبکہ اتحاد کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ تمام قومیں اپنی تہذیب ،ثقافت اور اپنا مذہب چھوڑ کر ایک سا نچے میں ڈھل جا ئیں بلکہ اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ تما م فرقے مشترکہ مسا ئل میں ایک ہو جا ئیں جیسے مسلمانوں کے تمام فرقے تو حید کے قا ئل ہیں تو اسی مسئلہ میں ایک ہو جا ئیں۔ ایک مسئلہ پر اگر ہم سب متفق ہو گئے” کلمہ تو حید” کے سا تھ سا تھ” تو حید کلمہ” کا بھی  مظا ہرہ کر نے لگے تو پھر دشمن بھی سر نگوں ہو جا ئے گا اور مسلمانوں کے آ پسی اختلافات بھی کم ہو تے نظر آئیں گے ،اسی سلسلہ میں علامہ فقید کاشف الغطاء  فر ما تے ہیں :بُنِیَ الْاِسْلاَمُ عَلَی کَلِمَتَیْنِ کَلِمَةُ التَّوحِیْدِ وَ تُوحِیْدُ الْکَلِمَةِ ١  اسلام کی بنیاد دو کلموں پر ہے” کلمہ ٔتو حید” اور  ” تو حید ِکلمہ” ۔ یعنی مسلمانوں کو ایک صدا اورہم آواز ہو کر رہنا چا ہیئے۔

         چھو ٹے چھو ٹے گروہ کو گمراہ کر نا زیادہ آسان ہے لیکن ایک بڑی تعداد کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ہم مشترکہ عقا ید ، مقاصد اور اہداف میں ایک ہو کر اسلام دشمن طاقتوں کے مقا بل میں ایک مضبوط طاقت بن سکتے ہیں۔اسلام دشمن طاقتوں کی تو شروع سے ہی یہی پا لیسی رہی ہے کہ پھو ٹ ڈا لو اور حکو مت کرو ،اس سیاست کا شکار تقریبا تمام قو میں ہو ئیں ہیں لیکن مسلمانوں سے کم ۔اتحاد کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے اور  آ ج کے دور میں تو کا فی ضرورت ہے کیو نکہ تمام دشمنان اسلام متحد ہو کر اسلام کے خلاف سر گرمیوں میں مشغول ہیں لیکن یہ مسلمان ہے جو اتنی بربادی اور آفات کے بعد بھی خواب غفلت میں محو ہے

اتحاد کی اہمیت

        اسلام دشمن طاقتوں کے لئے یہ بات بالکل ہی عیاں ہے کہ اگر مسلمان متحد ہو گئے تو اسلام کو پوری دنیا میں پھیلنے سے کوئی بھی طاقت نہیں روک سکتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے آ گے کسی کی کو ئی بھی تعلیم نہیں چلے گی اس لئے انہیں ایک نہ ہو نے دو اور یہ جا ہل مسلمان ابھی بھی اتحاد اسلامی کی طاقت سے بے خبر ہیں خاص کر سربرا ہان مملکت جو اسلامی حکو مت کے دعویدار ہیں وہ اسلام کو نہ صرف بدنام کر رہے ہیں بلکہ اپنی مملکت کو بچا نے کے لئے اسلام کی جڑیں کھو کھلی کر رہے ہیں اور اسلام کو ناقا بل تلا فی نقصان پہنچا رہے ہیں ۔مسلمانوں کی جہالت اور پسماندگی کا ایک بڑا سبب  عدم اتحاد ہے ۔ اتحاد ایک اچھے سماج کے لئے بہت بڑی ضرورت ہے اس کے بغیر سکون کی زندگی میسر نہیں ہو سکتی ہے۔

        ہر دور میں بشر کی ضرورت ہے اتحاد                                      وجہ  شرف ہے با عث  عزت ہے اتحاد

        فخر بشر ہے  نا زش  ملت ہے  اتحاد                                         سب سے بڑی سماج کی طاقت ہے اتحاد

                 قائم اک اتحاد کے دم سے نظام ہے

                   اس کے  بغیر زیست بشر کی حرام ہے

قرآن کریم میں اتحاد کا پیغام

        قرآن کر یم ایک مکمل پیغام ہے جس میں بشریت کی دنیوی اور اخروی دونوں جہاں کی سعادتو ں کا ذکر ہے اسی کے سا تھ ساتھ نقصان دہ چیزوں کو بھی بیان کر دیا گیا ہے ۔اس عظیم کتاب میں صرف عبادات کا ہی بیان نہیں ہے بلکہ تمام چیزوں کا بیان ہے اورایک کا میاب اسلامی زندگی گزارنے کے تمام اصول بیان کئے گئے ہیں انہیں اصولوں میں سے ایک اصول اتحاد ہے۔جب تک اتحاد نہ ہو گامعا شرے میں سکون و امن کاقائم ہوناناممکن ہے لہٰذا قرآ ن نے مختلف جگہوں پر اتحاد اور با ہمی یکجہتی پر کا فی زور دیا ہے چنا نچہ ارشاد ہو تا ہے (وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اﷲِ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُوا ) ٢   اور تم سب مل کر خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور آپس میں تفرقہ نہ کرو۔اس آیت میں بالکل وا ضح الفاظ میں مسلمانوں کو با ہمی یکجہتی کے سا تھ رہنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور تفرقہ او رپرا کندگی سے روکا جا رہا ہے۔

        شہید مطہری کہتے ہیں کہ اس آسمانی کتاب کا یہی پیغام ہے کہ مسلمان آپس میں متفرق اور پرا کندہ نہ ہوں اور متحد ہو کر رہیں۔٣  اس آیت سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم انسان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو نے کا حکم دے رہا ہے کہ تم سب کے سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھا م لو اور آپس میں تفرقہ نہ کرو ۔ اس آیت میں مسلمانوں کے با ہمی اتحاد کے لئے جسے ملاک و معیار قرار دیاگیا ہے وہ  ”حَبْلُ اللّٰہِ”ہے علماء و مفسرین نے اس کے کئی معنی بیان کئے ہیں ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں رسول اللہ نے فر ما یا : اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّی قَدْ َترَکْتُ فِیْکُمْ حَبْلَیْنِ اِنْ اَخَذْ ُتمْ بِھِمَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِی اِحْدَھُمَا اَکْبَرُ مِنْ آخَرَ کِتَابَ اللّٰہِ  حَبْل مَمْدُوْدِ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ وَعِتْرَتِیْ اَہْلُ بَیْتِی۔۔۔٤  اے لوگو! میں تمہا رے درمیان دو رسیاں چھوڑے جا رہا ہوں اکر تم ان دو نوں سے منسلک رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے وہ کتاب خدا کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک ہے اور دوسرے میری عترت یعنی میرے اہل بیت ہیں۔ اسی کتاب میں ابان بن تغلب سے روا یت ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فر ما یا : نَحْنُ حَبْلُ اللّٰہِ الَّذِی قَالَ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اﷲِ جَمِیْعاً ٥ہم ہی حبل اللہ ہیں جس سے تمسک اور پیروی کا حکم دیا جا رہا ہے ۔

         علا وہ تفسیر نور میں حضرت علی سے منقول ہے کہ حبل اللہ سے مراد قرآن ہے ۔

        تفسیر نور الثقلین میں آیا ہے کہ حبل اللہ سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں ۔

             علمائے اہل سنت نے بھی اس آیت کے جو معنی بیان کئے ہیں وہ سب اتحاد پر ہی دلالت کرتے ہیں ۔ عالم اہل سنت حسین بن مسعود بغوی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں 🙁 وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اﷲِجَمِیْعاً  )یہاں حبل اللہ سے مراد قرآن ہے کہتے ہیں :اِنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ ھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنِ ۔٦

     تفسیر جلالین میں” وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اﷲِ ” سے مراد دین خدا سے تمسک کرنا ہے۔٧

        کتاب التسہیل لعلوم التنزیل میں صاحب تفسیر لکھتے ہیں یہاں لفظ حبل کوکنایة استعمال کیا گیا ہے۔ جس سے مراد قرآن کریم ہے اور سب کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اس کو سب مل کر تھام لیں ۔٨

        شواہد التنزیل میں اس آیت کی تفسیر میں حضور اکرم ۖ کی ایک حدیث پیش کی ہے۔ آپۖ فر ما تے ہیں : مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَرْکَبَ سَفِیْنَةَ النَّجَاةِ وَ یَسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَیٰ وَ یَعْتَصِمَ بِحَبْلِ اللّٰہِ فَلْیُوَا لِ عَلِیًّا وَ لِیَاتَمَّ بِالْھُدَاةِ مِنْ وُلْدِہِ۔جو بھی کشتی نجات پرسوار ہو نا چا ہے اور عروہ وثقیٰ سے تمسک کر نا چا ہے اور خدا کی رسی کو پکڑنا چاہے تو اسے چا ہیئے کہ علی اور ان کی اولادسے تمسک کرے  ۔ ٩

  اس کے علاوہ حبل اللہ کی تفسیر میں حضرت اما م جعفر صادق کی ایک حدیث پیش کرتے ہیں آپ فرما تے ہیں :نَحْنُ حَبْلُ اللّٰہِ الَّذِی قَالَ اللّٰہُ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اﷲِ جمیعاً الآیة فَالْمُسْتَمْسِکْ بِوِلَایَةِ عَلِیُّ ابْنِ اَبِی طَالِبٍ اَلْمُسْتَمْسِکُ بِالْبِرِّ فَمَنْ تَمَسَّکَ بِہ کَانَ مُومِناً وَ مَنْ تَرَکَہ کَانَ خَارِجاً مِنَ الْاِیْمَانِِ ۔ہم ہی حبل خدا ہیں جسکے سلسلے میں کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھا م لو، علی  کی ولایت کا اقرار کر نے والا ہی نیکی پر ہے اور جو ان سے تمسک کرے وہ مومن ہے اور جو ان کو چھوڑ دے وہ ایمان سے خارج ہے۔١٠

        تفسیر روح المعانی میں اس آیت کی تفسیر میں رسول اکرم کی حدیث بیان کرتے ہیں: آپۖ فرما تے ہیں : میں تمہا رے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک کتاب خدا ہے جو آسمان سے زمین تک ہے اور دوسرے میرے اہل بیت  ہیں اور یہ دو نوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کو ثر پر ہم سے آ ملیں ۔١١

        ان تمام باتوں کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ شیعہ و اہل سنت دونوں فرقوں کے علمااس بات کے قائل ہیںکہ اتحاد کا مرکز قرآن کریم اور اہل بیت نبوت ہیں اور اگرسارے مسلمان ان کے زیر سا یہ آجا ئیں تو پوری دنیا اسلامی معاشرہ کا مصداق بن سکتی ہے۔

         ایک مقام پر خدا وند عالم مسلمانوں کو ماضی سے درس عبرتحاصل کرنے کی تعلیم دے رہا ہے۔ (  وَلاَتَکُونُوا کَالَّذِینَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَائَہُمْ الْبَیِّنَاتُ وَاُوْلَئِکَ لَہُمْ عَذَاب عَظِیم) ١٢ تم لوگ گذشتہ ادیان کی امتوں کی طرح نہ ہو جا ئو جو خدا کی نشا نیاں واضح اور روشن ہو جا نے کے بعد بھی فرقوں میں بٹ گئیں اور آپس میں اختلاف کر نے لگیںایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے ۔ مسلمانو! ہوش کے نا خن لو !اور گذشتہ قوموں کی طرح نہ ہو جا ئو کہ جب تک وہ اتحاد سے رہیں کا میاب رہیں اور جب دا من اتحاد کو چھوڑ دیا تو گمراہ و برباد ہو گئیں۔

        استاد شہید مطہری اس آیت کے ذیل میں فر ما تے ہیں یہاں جس اختلاف کی طرف اشارہ ہے وہ مذہبی اختلاف ہیں جو سا رے اختلافات سے زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہیں۔١٣ مذہبی اختلافات کے برے اثرات بھی دیر تک رہتے ہیں نسلوں کو برباد کر دیتے ہیں انہیں اصل مذہب سے دور کر دیتے ہیں لہٰذا مسلمانوں کو اس آیت کے ذریعہ خبر دار کیا جا رہا ہے کہ تم ایسا کام نہ کروجس کی وجہ سے تمہارا حال بھی گذشتہ امتوں کی طرح ہو جا ئے جب کہ تم تو بہترین امت ہو اس لئے تمہاری ذمہ داریاں زیادہ ہیں تم تو دنیا کو ایک پرچم تو حید کے زیر سا یہ لا نے والے ہو ، بر ا ئیوں کو ختم کر نے وا لے ہو تم اتحاد کو قا ئم    کر نے کے بعد ہمیشہ اس کی حفا ظت کے لئے کو شاں رہواور اس کا خیال بھی رکھو ۔

        قرآن میں ارشاد ہو تا ہے (  وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ ُامَّة یَدْعُونَ ِالَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنْ الْمُنْکَرِ وَاُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُفْلِحُونَ )١٤   اور تم میں سے ایک گروہ کوایسا ہونا چاہیئے جو خیر کی دعوت دے، نیکیوں کا حکم دے اور برا ئیوں سے منع کرے اور یہی لوگ نجات یا فتہ ہیں ۔ اتحاد کا ذکر اور تفرقے سے بچنے کے حکم کے درمیان اس آیت کو نازل ہونابھی ایک خاص مقصد کے تحت ہے اور وہ یہ ہے کہ اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ نیکی کی طرف دعوت دی جائے اور برا ئیوں سے روکاجائے اور یہ روکنا بھی دینی اعتبار سے ہ اور مقصد اور ہدف، دین کی پیروی ہو۔

        قرآن کریم اس بات کی طر ف بھی اشارہ کر رہا ہے کہ دین کی طرف دعوت دینا اور مل جل کر سعادت کی راہ پر چلنا بھی مشرکوں کو بہت نا گوار معلوم ہوتاہے لہٰذا فرما تا ہے ( َاقِیمُوا الدِّینَ وَلاَتَتَفَرَّقُوا فِیہِ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ مَا تَدْعُوہُمْ اِلَیْہِ )١٥دین کو قا ئم رکھو ، اور دین میں اختلاف و تفرقہ نہ کرو تم جس چیز(دین) کی دعوت دے رہے ہو وہ مشرکوں کو بہت نا گوار لگتی ہے ۔اس لئے کہ اگر سماج میں عام اتحاد اور یکجہتی ہو تو وہ بھی سماج کو ترقی کی طرف لے جا تی ہے تو جو اتحاد اسلامی اصولوں پر ہو اگر وہ معاشرے میں را ئج ہو جا ئے تو معاشرہ ترقی کی منزلوں کو آسا نی سے طے کرتا ہوا منزل کمال تک پہنچ جائے گا۔ یہی چیز مشرکوں اور تمام دشمنان اسلام کو نا گوار لگتی ہے عجیب بات ہے تمام دشمنان اسلام تو اس بات پر یقین کا مل رکھتے ہیں کہ اگرمسلمان متحد ہو گئے تو ان سب کا راج ختم ہو جائے گا۔

          لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان قرآن کے فرا مین کے بعد بھی متحد نہیں ہو رہا ہے قرآن نے بارہا تفرقہ سے روکا ہے ،متفرق نہ ہو ورنہ تمہاری طاقت ختم ہو جا ئے گی تمہا را جاہ و حشم کھو  جا ئے گا تمہا ری شوکت ذلتوں کے اندھیرے کنوئیں میں دفن ہو جا ئے گی اور تم پسماندہ ہوجائوگے،ارشادہو تا ہے (و َلاَ تَنَازَعُوا  فَتَفْشَلُوا وَتَذْھَبَ رِیحُکُم )١٦اختلاف نہ کروکہ کمزور پڑجا ئو اور تمہارا رعب و دبدبہ ختم ہو جا ئے ۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اتحاد و یکجہتی قوت و طاقت کا سبب ہے۔اورتفرقہ و پرا کندگی ضعف اور کمزور ی کا سبب ہے جس کا نتیجہ فنا و نا بودی ہے ۔

        اس کے علاوہ ایک آیت میں خدا وند عالم نے تمام مسلمانوں کو بھا ئی کہا ہے، یعنی مسلمان صرف اس لئے مل جل کر نہ رہیں کہ وہ صرف مسلمان ہیں بلکہ وہ بھا ئی بھی ہیں ارشاد رب العزت ہے ( ِانَّمَا الْمُؤْمِنُونَ ِاخْوَة) ١٧  بیشک مومنین ایک دوسرے کے بھا ئی ہیں ۔ یعنی تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ تمام براداران دینی کو ایک دوسرے سے مل جل کر رہنا چا ہیئے ۔

         خدا وند عالم نے صرف تمام مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ تمام نبیوں اور ان کی امتوں کو بھی امت وا حدہ کہا ہے ارشاد ہو تا ہے (اِنَّ ھَذِہِ ا ُمَّتُکُمْ ا ُمَّةً وَاحِدَةً وَاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُونِِ)١٨  بیشک یہ(تمام پیغمبر اور ان کی امت ) سب ایک امت ہیں (اور تو حید کے ماننے والے ہیں ) اور میں تم سب کا رب ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو۔

        اتحاد پر اتنی تاکید کے علا وہ فتنہ انگیزی اور تفرقہ کر نے والوں کی مذمت کی جا رہی ہے اور ان کوعذاب آخرت سے ڈرایا جا رہا  ہے چنانچہ ارشاد ہو تا   ہے (ا ِنَّ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَہُمْ وَکَانُوا شِیَعًا لَسْتَ مِنْہُمْ فِی شَیْئٍ ِانَّمَا َامْرُہُمْ ِالَی اﷲِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمْ بِمَا کَانُوا یَفْعَلُون)١٩ خدا وند عالم اپنے حبیب سے فر ما رہا ہے جن لوگو ں نے اپنے دین میں تفرقہ کیا اور مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں ایسے لوگوں سے آپ ۖ کا کو ئی تعلق و رابطہ نہیں ہے خدا خود ان سے سمجھے گا اور خدا انہیں ان کے انجام دیئے گئے اعمال سے با خبر کر دے گا ۔ ان تمام آیات سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہو جا تی ہے کہ اتحاد و یکجہتی گمراہی سے بچنے کی ایک سپر ہے افتراق و پرا کندگی انسان کو دین سے منحرف کر دیتی ہے اور اس کو ذلت و پسماندگی کے دلدل میں دھکیل دیتی ہے ترقی کی را ہوں سے دور کر دیتی ہے اور سب سے بڑی بات کہ اسلام سے دور کر دیتی ہے اسی لئے اسلام نے مسلمانوں کو ہمیشہ متحد ہو کر رہنے کی دعوت دی ہے اسلامی رہبروںکی کو شش بھی یہی رہی ہے کہ مسلمان ایک ہو کر رہیں، جب تک مسلمان متحد تھے اس وقت تک ترقی کی منزلوں کو تیزی سے طے کر رہے تھے اور روم و فارس جیسی شکست نا پذیر طاقتوں کو اپنے جذبہ ایما نی اور با ہمی اتفاق و اتحاد کی طاقت سے روندڈالا لیکن جب یہی مسلمان دامن اتحاد کو چھوڑ کر اپنے اپنے مفادات کی حصولیابی میں لگ گئے تو تفرقے کے گھٹا ٹوپ اندھیروں نے انہیں اپنے منحوس احاطہ میں لے لیا ۔جس کے نتیجہ میں یہ سب اسلام کے تابناک سورج کی شعا عوں سے محروم ہو گئے اور آج تک استعماری غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہو ئے ہیں قرآن کریم ہمیشہ سے مسلمانوں کو آواز دے رہا ہے (وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اﷲِ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُوا) ایک ہو جا ئو اللہ کی رسی کو  مضبو طی سے تھام لو متفرق نہ ہو لیکن مسلمان ابھی بھی خواب غفلت میں پڑا ہوا ہے ۔

       سارے عالم پہ حکومت جنہیں کرنا تھی وہی

بٹ کے فرقوں میں پریشاں ہو ئے ابتر نکلے

                                                                         (شہید  ؔمٹیا برجی)

اہل کتاب سے اتحاد

        اسلام اتحاد کا سب سے بڑا علم بردار ہے سکون و امناور صلح و آشتی کا پیغام دینیوالاہے۔ اسلام تمام اقوام عالم کو ایک پر چم تلے   آ نے کی دعوت دیتا ہے اور جو اس پر چم تو حید کے زیر سا یہ آجا تا ہے اسے کرمل جل کر رہنے کی دعوت دیتا ہے ۔ اسلام نے اتحاد کے لئے صرف مسلما نوں پر ہی زور نہیں ڈالا بلکہ دوسرے آسمانی مذاہب جیسے یہودیوں اور عیسا ئیوں کو بھی اتحاد کی دعوت دی ہے۔ خدا وند عالم اپنے حبیب سے فرمارہا ہے کہ اہل کتاب کو اتحاد کی دعوت دیں اور اس آیت میں طریقہ اتحاد بھی بتا دیا جو مسلمانوں کے لئے بھی ایک راہنما کی حیثیت رکھتاہے ۔ (قُلْ یَاَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا ِلَی کَلِمَةٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ َلاَّ نَعْبُدَا ِلاَّ اﷲَ وَلاَنُشْرِکَ بِہِ شَیْئًا وَلاَیَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا ا َرْبَابًا مِنْ دُونِ اﷲِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْہَدُوا بِاَنَّا مُسْلِمُون )٢٠  اے پیغمبرۖ آپۖ کہہ دیں کہ اے اہل کتاب آئو ایک منصفا نہ کلمہ پر اتفاق کر لیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں کسی کو اس کا شریک نہ بنا ئیں آپس میں ایک دوسرے کو خدا ئی کا در جہ نہ دیں ،اور اس کے بعد بھی یہ لوگ منھ موڑیں تو کہہ دیجیئے کہ تم لوگ بھی گواہ رہنا کہ ہم لوگ حقیقی مسلمان اور اطاعت گذار ہیں۔ یہ ایک کلمہ سے مرادتو حید ہے کہ اے یہودیوں اور مسیحیوںاگر تم اسلام قبول نہیں کرتے تو کم سے کم اسی تو حید پر اتحاد کرلوجس کے تم دعویدار ہوتم بھی تو حید کے ماننے والے ہو اور ہم بھی تو حید کے ماننے وا لے ہیں ۔علا مہ طبا طبائی فرما تے ہیں کہ اس آیت میں جو پیش کش کی گئی ہے وہ تمام اہل کتاب کے لئے ہے اور یہ حکم عمومیت رکھتا ہے ۔٢١

        تفسیر مجمع البیان میں شیخ ابی علی الفضل بن حسن طبرسی فرماتے ہیں اہل کتاب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ خدا کے سلسلے میں وہ جو شرک کر رہے ہیں اسے چھوڑ دیں اور صرف خدا کی عبادت کریں ہم بھی خدا ئے و احد کی عبادت کرتے ہیں اور تم بھی اسی کی عبادت کا دم بھرتے ہو تو آؤ اسی پر متحد ہو جا ئیں ۔٢٢

        اس سے ایک اور مسئلہ روشن ہو جا تا ہے کہ تمام الہی ادیان کا منبع و مرکز ایک ہے سب میں یکسانیت ہے سب کا محور توحید ہے توریت ، انجیل اور زبور جیسی آسمانی کتابوںکا محور بھی تو حید ہے ،ان کتا بوں نے بھی تو حید کی طرف دعوت دی ہے۔٢٣سارے آسمانی ادیان تو حید کے پر چم دار ہیں تو پھر توحید کے پرستاروں میں اختلاف کیسا ؟تو حید کے ماننے والے مسلمانوں کو تفرقہ کا حق کس نے دیا ؟ تمام مسلمان تو حید کے قا ئل ہیں تو کم سے کم اسی مسئلے میں تمام مسلمان ایک ہو جا ئیں۔ توحید کے ماننے وا لے سا رے اختلافات کو مٹا کر اس اس پر چم تلے جمع ہو جا ئیں ۔

اسلامی اتحاد اقوال معصومین علیہم السلام  کی روشنی میں

قرآ ن کریم کے ساتھ ساتھ رب کریم کے خاص نما یندے رسول کریم ۖ اور ان کی آل پاک نے جنہیں خدا نے لوگوں کی ہدا یت کی ذمہ داری سونپی ہے اپنی پوری زندگی اسلام اور مسلمانوں کے لئے صرف کردی اور مسلمانوں کو آپسی اختلافات سے روکنے کے ساتھ ساتھ انہیں دشمنان اسلام کا شکار بننے سے محفوظ رکھنے کی کو ششیں کیں ۔ جو لوگ ان سچے اور حقیقی رہبروں کے تا بعدار رہے ہیں وہ آج بھی اتحاد    و اتفاق کی نعمت سے سرفراز ہو کر اسلام کے زیر سا یہ ترقی کی معراج پر ہیں اور جو پرا کندگی کا شکار ہیںوہ آج بھی غفلت اور جہالت کے اندھیروں میں غرق ہیں یہاں ہم معصومین  کی کچھ حدیثوں کو پیش کریں گے جو اسلامی اتحاد کی دعوت دیتی ہیں۔

        حضور سرور کا ئنات ۖ فر ما تے ہیں : ثَلاَث لاَ یَغُلُّ عَلَیْہِنَّ قَلْبُ اِمْرَیٍ مُسْلِمٍ اِخْلَاصُ الْعَمَلِ وَ النَّصِیْحَةُ لِاَئِمَّةِ الْمُسْلِمِیْنَ وَ اللُّزُوْمِ لِجَمَا عَتِھِمْ ٢٤اگریہ تین چیزیں مسلمانوں میں ہوں تو کبھی لغزش ان کے دا من گیر نہیں ہو گی اعمال کو خالصا خدا کے لئے انجام دینا ، رہبران اسلامی سے خیر خوا ہی اور مسلمانوں کی جما عت کے سا تھ رہنا ۔ اتحاد بہتبڑی طا قت ہے جسے تمام دشمنان اسلام ختم کر نا چا ہتے ہیںانسانوں کا پرانا دشمن شیطان بھی ہے جو تفرقہ اور اختلافات کو ہوا دیتا ہے تا کہ مسلمانوں کو اسلام سے دور کرے ،مو لا ئے کا ئنا ت حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام فر ما تے ہیں:اِنَّ الشَّیْطَانَ یُسَنَّی لَکُمْ طُرُقَہ وَ یُرِیْدُ اَن یَّحِلَّ دِیْنَکُمْ عُقْدَةً عُقْدَةً وَ یُعْطِیَکُمْ بِالْجَمَاعَةِ الْفُرُقَةِ وَ بِالْفُرْقَةِ اَلْفِتْنَةَ٢٥ شیطان نے اپنے را ستوں کو تم پر آسان کر دیا ہے اور اس سے اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہا رے اتحاد کی گرہوں کو ایک ایک کرکے کھول دے اور تمہیں جما عت سے الگ کرکے فرقوں میں بانٹ دے اور اس تفرقہ سے فتنہ و فساد پھیلا ئے ۔اس حدیث سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ تی ہے کہ متحد رہنے سے انسان فتنہ و فساد سے محفوظ رہتاہے ۔ جہا ں جتنے فرقے ہوں گے وہاں اتنے ہی فتنے ہوں گے

     حضرت امام زین العا بدین  صحیفہ سجادیہ میں دعا فر ما تے ہیں: وَ ضَمِّ اَہْلِ الْفُرْقَةِ وَ اِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَیْنِ ۔پروردگارا! مجھے فتنوں اور فرقوں میں الجھے لوگوں کو متحد کر نے اور ان کے درمیان موجود اختلافات کو ختم کرنے میں کا میاب بنا ۔

         حضور سرور کا ئناتۖ فرما تے ہیں : اَلْجَمَاعَةُ رَحْمَة وَ الْفُرْقَةُ عَذَاب۔ ٢٦ جماعت اور مل جل کر رہنا ایک رحمت ہے اورمتفرق ہوکر الگ الگ رہنا با عث عذاب ہے ۔امیر المو منین حضرت علی  فرما تے ہیں :اَلْزِمُوا اَلْجَمَاعَةَ وَ اجْتَنِبُوا اَلْفُرْقَةَ۔٢٧ اپنے اتحاد کو قا ئم رکھو اور تفرقہ اندازی سے پر ہیز کرو ۔نیز مولا ئے کا ئنات  فر ما تے ہیں: فَاِنَّ جَمَاعَة فِیْمَا تَکْرَہُونَ مِنَ الْحَقِّ خَیْر مِنْ فِرْ َقةِ فِیْمَا تُحِبُّونَ الْبَا طِلَ ۔ ٢٨وہ حق کی پیرو کا ر جما عت جس سے تم کراہت رکھتے ہو اس با طل گروہ سے بہتر ہے جس سے تم محبت کرتے ہو ۔

         آپ  آیندہ آ نے وا لے وقت کو بیان کرتے ہو ئے اتحاد کو ضروری بتا تے ہیں ،آپ  فر ما تے ہیں : وَ اَنّہ سَیَاتِیْ عَلَیْکُمْ مِنْ بَعْدِی زَمَان لَیْسَ فِیْہِ شَیئ اَخْفٰی مِنَ الْحَقِّ وَلاَ اَظْہَرُ مِنَ الْبَاطِلِ ۔۔۔ فَاجْتَمِعْ الْقَوْمَ عَلَیٰ الْفِرْقَةِ۔۔۔٢٩عنقریب میرے بعد تمہا رے لئے ایسا زمانہ آئیگا جس میں حق سب  سے زیادہ پو شیدہ اور با طل سب سے زیادہ عیاں ہو گا،ایسے دور میں متحد ہو کر رہنا اور فر قوں میں نہ بٹ جا نا ۔ آپ  گذشتہ قوموں کے حالات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں ، جب تک وہ قومیں آپس میں متحد تھیں اس وقت تک خوش حالی اور سکون سے ان کی زندگی گذررہی تھی لیکن جب فرقوں میں بٹ گئیں تو وہ برباد ہو گئیں ۔ آپ فرما تے ہیں : اُنْظُرُوا اِلَی الْاُمَمِ السَّابِقَةِ کَیْفَ الَّذِیْنَ تَفَرَّقُوا مِنْ قَبْلِکُمْ بَعْدَ تَوَحُّدِھِمْ۔   ٣٠ ان گذشتہ امتوں کو دیکھو کہ وہ متحد ہو نے کے بعد پرا کندہ ہو گئیں ۔ جب تک یہ قومیں متحد تھیں ترقی کر رہی تھیں لیکن جب آپس میں پھوٹ پڑ گئی تو بربادی ان کا مقدر بن گئی۔ جب تک الہی پیشوا کی مل کر اطاعت کررہی تھیں اس وقت تک دین و دنیا کی عزتیں ان کے سا تھ رہیں لیکن جب الہٰی نما یندوں کو چھوڑ کر مختلف فرقو میں بٹ نے لگیں تو پھر دنیا وآخرت کی ذلتیں ان کے دا من گیر ہو ئیں ۔

 حضرات معصومین (ع)  کی حیات طیبہ میں اتحاد کے نمونے

        اتحاد کی سب سے زندہ مثال حضور اکرم ۖ کا مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت قا ئم کر نا ہے اس سے مسلمانوں میں ایک دوسرے کے لئے محبت اور ہمدردی بڑھی ایک دوسرے کے زیادہ قریب آئے ۔آپۖ نے مہا جرین و انصار کے درمیان دو مرتبہ اخوت کا رشتہ قائم کیا ۔اس عمل کے ذریعہ آپۖ قرآن کر یم کی آیہ  (ِانَّمَا الْمُؤْمِنُونَ  ِاخْوَة)تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھا ئی ہیں۔کی تفسیر عملی پیش کر رہے تھے۔

        حضور ۖ کے بعد مولا ئے کا ئنات نے بھی اسلامی اتحاد کا مظا ہرہ کیا ،آپ نے اپنا مسلم حق چھن جا نے دیا لیکن اسلامی اتحاد کو ختم نہ ہو نے دیا ،ور نہ اگر آپ بھی اپنے ظاہری فوا ئد کو نظر میں رکھتے تو آپ کے لئے اپنا حق واپس لینا ذرا بھی مشکل نہ تھا ایک ضربت ہی کا فی ہو تی لیکن اسلام کا شیرازہ بکھر جا تا ایک جگہ جمع ہو ئی یہ قوم پھر سے پرا کندہ ہو جا تی، رسول اسلامۖ کی سا ری زحمتیں برباد ہو جا تیںاسلام خطرے میں پڑ جا تااسی لئے آپ نے اپنے مسلم حق سے صرف نظر کیا تا کہ مسلمان متحد رہیں آپ نے خلفا ئے ثلاثہ کی بیعت نہیں کی لیکن اسلام کی بھلا ئی اور اس کو بچانے کے لئے ان لوگوں سے صلح کی اگر امام ایسا نہ کرتے تو ان لوگوں کے بس کی بات نہ تھی کہ اسلام کی کشتی کو سنبھال پا تے وہ لوگ اسلام کو برباد کردیتے مو لا ئے کا ئنات کو یہ گوارا نہ تھا کہ اسلام پر آنچ آئے اسی لئے آپ نے صلح کی اور اس صلح کے ذریعہ رہتی دنیا تک کے لئے واضح طور پریہ پیغام چھوڑدیا کہ علی کا مسئلہ خلافت  ذاتی مسئلہ نہیں تھا بلکہ اسلامی مسئلہ تھا اگر یہ صرف ذاتی  یا خاندانی مسئلہ ہو تا تو علی یقیناسکوت نہ کرتے ۔ آپ نے اسی بات کی طرف اشارہ کر تے ہو ئے فرما یا:سَلاَمَةُ الدِّیْنِ اَحَبُّ اِلَیْنَامِنْ غَیْرِہِ ۔٣١دین کی سلامتی ہما رے نزدیک تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔آپ کی خلافت کے دوران جب طلحہ اور زبیر نے حکومت کی لا لچ میں فتنہ انگیزی شروع کی تو آپ نے فر ما یا: خلافت کی ابتدا میں میں نے مسلمانوں کو تفرقہ سے بچا نے کے لئے اپنے مسلم حق کو نظر انداز کردیا لیکن یہ لوگ مال و دنیا کی لالچ میں فتنہ و فساد پھیلا رہے ہیں ، مسلمانوں کے د رمیان تفروہ اندازی کررہے ہیں ۔

اسلامی عبادتوں میں وحدت کی جھلک

        تمام اسلامی عبادتیں مسلمانوں کو متحد ہو نے کی دعوت دیتی ہیں جس کی سب سے واضح مثال حج بیت اللہ ہے جس میں پوری دنیا کے لوگ جمع ہو تے ہیں مسلمانوں میں ایک دینی جذبہ پیدا ہو تا ہے ۔ حضرت امام علی فر ما تے ہیں:وَ الْحَجُّ تَقْوِیَةً لِلدِّیْنِ ٣٢حج سے دین کو قوت و طا قت ملتی ہے ۔ اسی سلسلہ میں حضرت امام جعفر صادق  فر ما تے ہیں : فَجَعَلَ فِیْھِمُ الْاِجْتِمَاعِ مِنَ الشَّرْقِ وَ الْغَرْبِ لِیَتَعَارِفُوا۔٣٣ حج میں مشرق سے مغرب تک کے لوگ جمع ہو تے ہیں تا کہ ایک دوسرے کو پہچا نیں اور ان سے آشنا ہوں۔حج میں پوری دنیا کے مسلمان جمع ہو تے ہیںلیکن مختلف ہو نے کے با وجود احرام باندھ کر ایک ہو جا تے ہیں عرب و عجم،ایرانی و افغانی، ہندی و پاکستانی، گورا و کالا سا رے فرق مٹ جا تے ہیں اور سب کی ایک ہی صدا ہو تی ہے ”اللھم لبیک” اسی طرح نماز جما عت ، نماز جمعہ اور دوسری عبادات جو انسان کو جوڑ دیتی ہیں جب انسان نماز جما عت میں کھڑا ہو تا ہے تو تمام فرق مٹ جا تے ہیں اور سب ایک ہو جا تے ہیں ۔ اسی طر ح تمام مسلمانوںکی زندگی بھی ہو نا چا ہیئے ایک مسلم معا شرے میں ایک ہی پہچا ن ہو نا چا ہیئے (اِنَّمَا نَحْنُ مُسْلِمُونَ ) ہم سب مسلمان ہیں ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ معاویہ بن و ہب امام صادق علیہ السلام سے سوال کر تے ہیں کہ ہم شیعہ دوسرے فرقے کے لو گوں سے کس طرح پیش آئیں تو آپ نے فر ما یا : تم یہ دیکھو کہ تمہا ر ے امام  ان کے ساتھ کس طرح سے پیش آ تے ہیں ،خدا کی قسم تمہا رے امام ان کے بیماروں کی عیادت کرتے ہیں ،ان کی تشییع جنا زہ میں شرکت کرتے ہیں ان کے معاملات میں گوا ہی دیتے ہیں۔٣٤ ہمارے تمام ائمہ معصومین  نے اتحاد کے نمو نے پیش کئے ہیں اورہمیشہ تفرقہ کر نے وا لوں کی مذمت کی ہے اور کبھی بھی فتنہ و فساد کو ہوا نہیں دی ،بلکہ بھڑکے ہو ئے فتنوں کو خا موش کر نے کی ہر ممکن کو شش کی ہے ۔ اور ہمیشہ ایک اسلامی ما حول بنا نے میں کو شا ں رہے ہیں ان سا ری با توں سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ تمام مسلمانوں کو متحد ہو کر رہنا چا ہیئے اسی میںاسلام کی بقا ہے ۔

           ہمیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چا ہیئے کہ عصر حاضر کی سب سے اہم ضرورت مسلمانوں کا با ہمی اتحاد ہے ۔ اگر ہم نے آج کے دور میں اتحاد نہیں کیا تو مستقبل میںاسلام اور مسلمانوں کے لئے خطرات اور بڑھ جا ئیں گے۔  خاص کر ہم شیعوں کو تو اپنے ائمہ اور دوسرے دینی رہبروں سے رہنما ئی لینی چا ہیئے کہ کس طرح انہوں نے پر آشوب اور گھٹن وا لے ما حول میں بھی اسلامی مصلحتوں کو ہی مد نظر رکھا ہے۔ ان کی زحمات ہیںجو آج یہ اسلام ہم تک پہنچا ہے ۔ اب ہمارا فریضہ ہے کہ ہم بھی پوری امانت داری کے ساتھ اسلام کو اپنی آیندہ آنے وا لی نسلوں تک پہنچا ئیں اور اتحاد کے ذریعہ اسلام کی حفا ظت کریں ۔

وآخر دعوا نا ان الحمد للہ رب العالمین۔

حوالے

١۔اتحاد اسلامی، ص٦٣

٢۔سورۂ آل عمران،آیت ١٠٣

٣۔اتحاد اسلامی ص٣١

٤۔مجمع البیان ،ج١،ص ٨٠٥و بہج الصبا غہ،ج٢،ص٣٠١

٥۔مجمع البیان ،ج١،ص ٨٠٥

٦ ۔معالم التنزیل فی تفسیر القرآن ،ج١،ص٤٨١

٧۔تفسیر الجلالین،ج١،ص٦٦

٨۔التسہیل لعلوم التنزیل،ج١،ص١٦١

٩۔شواہد التنزیل لقواعد التفضیل،ج١،ص١٦٨

١٠۔شواہد التنزیل لقواعد التفضیل،ج١،ص١٦٩

١١۔روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم،ج٢، ص ٢٣٥  و الدر المنثور فی تفسیر الماثور ،ج٢،ص٦٠

١٢۔سورۂ آل عمران ،آیت١٠٥

١٣۔اتحاد اسلامی ص ٣١

١٤۔سورۂ آل عمران ،آیت١٠٤

١٥۔سورۂ شوریٰ ،آیت ١٣

١٦۔سورۂ انفال ،آیت ٤٦

١٧۔سور ہ ٔحجرات،آیت ١٠

١٨۔سورۂ انبیائ،آیت  ٩٢

١٩۔سورۂ انعام،آیت  ١٥٩

٢٠۔سورۂ آل عمران،آیت ٦٤

٢١۔المیزان  فی تفسیر القرآن ج٣ ،ص٣٤٦

٢٢۔مجمع البیان،ج٢،ص٧٦٧

٢٣۔المیزان ،ج٢ ،ص٣٤٦

٢٤۔خصال شیخ صدوق  ج٢ ص ٢٢٤

٢٥۔نہج البلاغہ ص ١٧٧

٢٦۔کنز العمال ح ٢٠٢٤٢

٢٧۔شرح غرر الحکم ،ج٢ ص٤٠

٢٨۔نہج البلا غہ ، خ ١٧٦

٢٩۔نہج البلاغہ ،خ ١٤٧

٣٠۔نہج البلاغہ نبراس السیاسہ و منھل التربیہ ص ٧٥

 ٣١۔نہج البلاغہ ،خ٦٥

٣٢۔نہج البلا غہ ،کلمات قصار ٢٢٤

٣٣ ۔اتحاد اسلامی ،ص ٦٦

٣٤۔اصول کا فی ،ج٢ ،ص ٦٣٦

19

The Sixth One-Day Seminar on the Title of Imam Zaid bin Ali Life, Services and Effects

The Sixth One-Day Seminar on the Title of Imam Zaid bin Ali Life, Services and Effects along with the Urs of Hazrat Shah Barkatullah Marharvi

Date: 22 February 2025

Organized by Jamia Al-Rasool Khanaqah Barkatiya Bari Sarkar Marhar Sharif, Itte, Uttar Pradesh

Seminar on the Title of Imam Zaid bin Ali Life, Services and Effects

On February 22, a major seminar was held in the city of Marhar Sharif, Itte district of Uttar Pradesh in the presence of prominent Shia and Sunni scholars and a large number of lovers of Ahlul Bayt (AS) from the Sunni brothers at Jamia Al-Rasool Marhar Madrasa.

In this grand program, various people recited scientific and research papers on various topics and at the end, the chairman of the session and Hojjatul Islam Mr. Syed Sadiq Hussaini, the head of the Council of Religious Affairs, delivered a speech.

At the beginning of the program, after reciting verses from the Holy Quran, Mr. Sayyed Sabtin Haider Zaidi, who was sitting on the sajdah at the place of Barakatullah Sahib Barakat, presented his own content and explained the program. After that, the esteemed and distinguished guests were welcomed and gifts were presented, and after that, the essay reading phase began.

The chairman of the session, Dr. Professor Seyyed Jamaluddin, delivered an article on the spirituality of the movement of Hazrat Zayd Shahid. He said: Hazrat Ali (peace be upon him) is the rightly guided Caliph and the first Imam, while the Imamate is a spiritual position, while the Caliphate is a political position, and the difference between the Imamate and politics is that in the Caliphate, they can kill anyone they want, but the Imamate does not kill anyone unjustly. Initially, leadership and leadership was in the hands of the Imams of the Ahl al-Bayt (peace be upon them) because they ruled over hearts, because they were always against oppression, they never supported oppression and did not support oppressors. The Imams of the Ahl al-Bayt did not disagree with the Islamic rulers on the issue of “You have violated our rights and returned the government to us.” Rather, they claimed that you are oppressors. You are irreligious. You do not follow the Sharia.

The goal of the Ahl al-Bayt has never been to seek power. Rather, the goals of the Imams of the Ahl al-Bayt have always been to establish a system of justice, to destroy oppression, and to establish a society free from corruption and immorality. A large number of scholars and scholars gave speeches in this program, and at the end, the representative of the Council of Religions in India, Mr. Sayyid Sadiq Hussaini, delivered a speech. He made important points and presented good material.

111

Imam Ali (AS) Conference, Ujhari

Imam Ali (AS) Conference

As the celebration of the birth of the Maulood e  Kaaba 13 Rajab 1446 (1403)

 Program Details

Program Name: Celebration of the Birth of the Maulood e Kaaba

Time: 13 Rajab 1446 (1403) corresponding to 14 January 2025

Location: Madrasa of Ahlul Bayt School, Shahi Chowk Ujhari Neighborhood, Amroha District

Organizer: Alawi Brothers and Believers Ujharvi

Under the patronage of: H. I. Maulana Syed Sadiq Hussaini, a Taqreeb e Mazahib Council, India

Celebration of the Birth of the Maulood e Kaaba

Like previous years, this year, on 13 Rajab 1446 (1403) corresponding to 14 January 2025, on the occasion of the birth of the pious master, Imam Ali Ibn Abi Talib (AS), a conference related to him and the celebration of the birth of the Maulood e Kaaba will be held in the Ujhari area (Hasanpura, Amroha, Uttar Pradesh) was held with the presence of a large number of scholars, scholars and lovers of Ahlul Bayt, including Shia and Sunni brothers.

This magnificent program was held at the Madrasa of Ahlul Bayt School, Shahi Chowk Ujhari neighborhood, Amroha district under the patronage of Hojjatul Islam and Muslims, His Excellency Maulana Syed Sadiq Hussaini, the representative of the Taqreeb e Mazahib Council. It is worth mentioning that in this mentioned area, with the efforts of many missionaries, a large number of lovers of Ahlul Bayt (peace be upon them) have emerged and this number is increasing day by day. The same lovers of Ahlul Bayt (peace be upon them) who belong to the Sunnis attend this magnificent program and participate in the celebration of the birth of the Kaaba and express their devotion and love for Imam Ali (peace be upon him).

Program Details

Chairman: His Excellency Maulana Irfan Sahib Imam of Juma Ujhari

Recital: His Excellency Maulana Mufti Akhtar Raza Sahib Farid Nagar

Recital: His Excellency Maulana Sarkar Mahdi Sahib Qibla Imam of Juma Ujhari Sadat

Special Guest: His Excellency Maulana Syed Asif Raza Sahib Qibla Ujhari

Supervisor: His Excellency Maulana Syed Sadiq Hussaini, Taqreeb e Mazahib Council Delhi

Organizer: Alavi Brothers and Believers of Ujharvi